Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دُھلا ہوا ہاتھ بالٹی میں ڈال کر وضو کے لئے پانی نکالنا
- Fatwa no.
- 3612-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر ہاتھ دھلے ہوں تو کسی بالٹی یا برتن وغیرہ میں ہاتھ ڈال کر اس سے پانی نکال کر وضو کر سکتے ہیں یعنی بالٹی کے اندر سے ہی چلو لیا اور چہرہ دھو لیا پھر کہنیوں تک ہاتھ دھو لیے اور پاؤں بھی، تو یوں ڈھلے ہوئے ہاتھ سے پانی نکال کر وضو کر سکتے ہیں؟ نیز جو وضو کے پانی کے قطرے بالٹی یا بر تن میں گرے تو ان کا کیا حکم ہے ، ان سے پانی مستعمل ہو گا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! اگر ہاتھ دھلے ہوئے ہوں اور ہاتھ دھونے کے بعد سے لے کر ابھی تک وضو توڑنے والی کوئی چیز نہیں پائی گئی تو کسی بالٹی یا برتن وغیرہ میں ہاتھ ڈال کر اس سے پانی نکال کر وضو کر سکتے ہیں، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اگر کسی ایسی جگہ ہے جہاں کوئی دوسرا پانی موجود نہیں ہے، جس سے ہاتھ دھو سکے ، صرف کسی بڑے برتن میں پانی ہے کہ اسے جھکا نہیں سکتا، نہ کوئی چھوٹا برتن ہے کہ اس سے پانی نکالے اور نہ کوئی بچہ یا باوضو ہے کہ جس سے یہ کام لے سکے اور اس کے علاوہ بھی کوئی صورت میسر نہیں کہ بے دھلا ہاتھ ڈالے بغیر پانی لے سکے تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت بغیر دھلے ہاتھ (جبکہ ان پر کوئی نجاست نہ لگی ہو)…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.