Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا نام اسید رکھنا

Fatwa no.
3602-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے بھتیجے کا نام اسید ہے ، جو کہ بہت شرارتی ہے اور ضد بھی کرتا ہے ۔ آپ یہ رہنمائی فرمائیں کہ اس نام کا کیا مطلب ہے اور یہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا تبدیل کر لینا چاہیے۔

Answer (beginning)

اسید نام معنی کے لحاظ سے بھی اچھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ نام اولین صحابہ کرام میں سے ایک صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی ہے ، جن کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت اچھی شخصیت قرار دیا ہے۔ اسید نام کا مطلب ہے ”نھا شیر جو کہ عربی کے لفظ ”اسد “ سے تصغیر کا صیغہ ہے اور اسد کا معنی شیر ہے۔ یہ نام رکھنانہ صرف جائز، بلکہ صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت کی وجہ سے باعث خیر و برکت بھی ہے اور اس میں پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر عمل بھی ہے کہ اپنے اچھوں کے ناموں پر نام رکھو ، لہذا اس نام کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ بچے کی شرارت اور ضد کا اس نام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.