Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مذاق میں اپنے آپ کو کافر کہنے کا حکم؟

Fatwa no.
3596-WAT
Issued
18 شعبان المعظم 1446ھ / 17 فروری 2025 ء

Question

(دعوت اسلامی) ایک مسلمان کا اپنے اپ کو عیسائی (Christian) کہنا کیسا ہے ؟ مثلا زید یہ کہتا ہے کہ میں تو کر سچن ہو گیا ہوں اگر چہ اس کی نیت مذاق اور ٹھٹے کی ہو ؟

Answer (beginning)

اپنے آپ کو عیسائی کہنے سے وہ شخص دائرہ اسلام سے نکل گیا، اگر چہ اس نے یہ جملہ مذاق سے کہا ہو کہ مذاق سے کلمہ کفر بولنا بھی کفر ہے، ایسے شخص پر لازم ہے کہ تو بہ اور تجدید ایمان کرے اور اگر شادی شدہ ہے اور اس عورت کور کھنا چاہے تو تجدید نکاح بھی کرے۔ بحر الرائق میں ہے " و من هزل بلفظ كفر ارتدوان لم يعتقده للاستخفاف "ترجمہ: اور جس نے مذاق میں کلمہ کفر بکا تو وہ مرتد ہو گیا اگر چہ اس کا اعتقاد نہ رکھتا ہو کہ اس کو ہلکا سمجھنا پایا گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.