Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قضا روزے کی نیت ضحوی کبری سے پہلے ہو سکتی ہے؟
- Fatwa no.
- 3595-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زوال یعنی ضحوہ کبری سے پہلے پہلے قضا روزے کی نیت کر لی جائے تو کیا روزہ ہو جائے گا؟ سحری میں آنکھ نہیں کھلی اور نماز فجر کے وقت ذہن کچا پکا سا تھا، ابھی ضحوہ کبری سے پہلے نیت کر لی جائے تو کیا روزہ ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
رمضان کے قضا روزے میں طلوع فجر کے وقت نیت کا ہونا ضروری ہے ، خواہ عین اسی وقت کی جائے یا اس سے پہلے رات میں ، لہذا طلوع فجر ہو جانے کے بعد ضحوہ کبری سے پہلے نیت کرنا کافی نہیں ہو گا اور اس طرح یہ روزہ نہیں ہو گا۔ مزید یہ بھی جان لیں کہ نیت ، دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں، ذہن کا کچا پکا ہو نانیت کے لیے کافی نہیں۔ الدر المختار میں ہے : " (والشرط للباقي) من الصيام قرآن النية للفجرولوحكماوهو(تبييت النية) للضرورة(وتعيينها)لعدم تعين الوقت.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.