Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ کے لئے محبت اور بغض رکھنے کی تشریح

Fatwa no.
3591-WAT
Issued
25 شعبان المعظم 1446ھ / 24 فروری 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک میں ہے " اللہ پاک کو سب سے زیادہ پیارا عمل اللہ کے لیے محبت اور بغض رکھنا ہے " (مسند امام احمد 8 / 68، حدیث 21361) اس میں موجود بغض سے کیا مراد ہے؟

Answer (beginning)

بغض کا لغوی معنی ہے: "دشمنی، نفرت۔" اللہ کے لیے محبت اور بغض رکھنے سے مراد یہ ہے کہ : " کسی شخص کا کسی نیک آدمی سے صرف اُس کے ایمان و عرفان کی وجہ سے محبت کرنانہ کہ اپنی نفسانی خواہش کے تحت محبت کرنا۔ اور کافر سے اور گنہگار آدمی سے صرف اُس کے کفر اور گناہ کی وجہ سے نفرت کرنانہ کہ محض ایذاء دینے کے لیے۔ الغرض مخلوق کے ساتھ اس کے معاملات محض اللہ تعالی کی خاطر ہوں۔" المنجد میں ہے "بغض و بغض و بغض بغاضة و ثمنی کرنا، نفرت کرنا۔۔۔۔البغض : نفرت دشمنی۔" (المنجد، ص64، مطبوعہ:لاہور) فیروز اللغات میں ہے "بغض : نفرت، دشمنی، کینہ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.