Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

توریہ کرنے کا حکم

Fatwa no.
3567-WAT

Question

دعوت اسلامی) توریہ کرنا یعنی اگر کوئی پوچھے کہ آپ کل آئے تھے اور وہ بولے میں آیا تھا، مراد یہ لے دو دن پہلے ، تو کیا اس کو جھوٹ بولنے کا گناہ نہیں ہو گا ؟

Answer (beginning)

بلا حاجت توریہ کرنا، جائز نہیں، البتہ حاجت ہو تو جائز ہے، اگر بلا حاجت ہو گا تو جھوٹ کا وبال آئے گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ”و يكره التعريض بالكذب إلا لحاجة كقولك لرجل كل فيقول أكلت يعني أمس فإنه كذب كذا في خزانة المفتين “ترجمہ : بلا حاجت تو ریہ کرنا مکروہ ہے مثلاً تمہارا کسی آدمی کو کہنا کہ کھاؤ، اور وہ کہے میں نے کھا لیا یعنی کل تو اس نے جھوٹ بولا، یو نہی خزانہ المتین میں ہے۔ (فتاوی هندیة، ج 5، ص 352، دار الفكر بيروت) بہارِ شریعت میں ہے : توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہر معنی ہیں ، وہ غلط ہیں، مگر اس نے دوسرے معنی مراد لیے، جو صحیح ہیں، ایسا کر نابلا حاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.