Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کے پیسوں سے نلکا کھدوانا

Fatwa no.
3561-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ز کوۃ کے پیسوں سے نلکا کھد واسکتے ہیں، جہاں غریب مسلمانوں کو پانی کی ضرورت ہو ؟

Answer (beginning)

زکوۃ وغیرہ صدقہ واجبہ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ غیر ہاشمی شرعی فقیر (جس کو زکوۃ لینا، جائز ہو، اس) کو اس پر قبضہ دے کر اس کا مالک کر دیا جائے، اگر اس کے بغیر ہی کسی دوسرے نیک کام میں رقم خرچ کر دی، تو زکوۃ ادا نہیں ہو گی۔ لہذ از کوۃ کے پیسوں سے نلکا کھدوانے کے لیے بھی پہلے کسی غیر ہاشمی، عاقل، بالغ شرعی فقیر کو زکوۃ کی رقم کا مالک بناتے ہوئے اس رقم پر قبضہ دے دیا جائے، جب وہ قبضہ کرلے ، تو اس کے بعد وہ یہ رقم اپنی مرضی و اجازت سے کسی بھی نیک کام مثلا لوگوں کے لیے پانی کا انتظام کرنے اور نلکا کھدوانے کے لیے دے دے، تو اس پروسس کے بعد اُن پیسوں سے نلکا کھد واسکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.