Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس گناہ سے سچی توبہ کرلی اس پر پکڑ ہوگی یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 3556-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قرآن میں آیا ہے "وَ مَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَر اثرة " ( جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا)، دوسری طرف حدیث پاک میں آیا ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ میر اسوال یہ ہے کہ جس گناہ سے سچی توبہ کر لی جائے کیا ان گناہوں پر بھی قیامت کے دن پکڑ ہو گی اور سوال کیا جائے گا؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! جو گناہ سچی توبہ یا اعمال صالحہ کے سبب مٹ چکے ، قیامت کے دن ان کے متعلق نہ سوال کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی پکڑ ہو گی کیونکہ وہ کالعدم ہو چکے بلکہ بعض صورتوں میں تو بہ کرنے والے کے گناہ مٹاکر اس کے بدلے نیکیاں دی جائیں گی۔ مشکاۃ المصابیح میں حدیث پاک منقول ہے : ” عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «التائب من الذنب كمن لا ذنب له “ ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.