Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بغیر ختنہ والے کا نکاح ہو سکتا ہے؟

Fatwa no.
3555-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا کسی بالغ لڑکے کا بغیر ختنہ کیسے نکاح ہو سکتا ہے، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

Answer (beginning)

ختنہ کرنا سنت ہے اور یہ شعار اسلام میں سے ہے کہ مسلم اور غیر مسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے ، اسی لیے عرف میں اسے مسلمانی کہتے ہیں۔ البتہ اگر بغیر ختنہ کروائے نکاح کیا جائے اور نکاح کے تمام شرائط ولوازمات پورے ہوں تو نکاح درست ہو جائے گا کہ نکاح کے لیے ختنہ ہو ناضروری نہیں ہے۔ نکاح کی شرائط سے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے (رکنه) فالإيجاب والقبول (ومنها) الشهادة وشرط في الشاهد أربعة أمور : الحرية والعقل والبلوغ والإسلام ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد (ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معا، ملتقطا "ترجمه : نکاح کارکن ایجاب و قبول ہے ، نکاح کی شرائط میں ایک شرط گواہوں کا ہونا ہے، اور گواہ میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.