Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوی کے انتقال کے بعد بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح

Fatwa no.
3548-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کی بیوی فوت ہو جاتی ہے تو فوت شدہ بیوی کی الہ یا پھوپھی سے وہ شخص شادی کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

بیوی کے فوت ہونے کے بعد بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح کیا جاسکتا ہے ، جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ ( مثلا رضاعت و مصاہرت وغیرہ) نہ پائی جائے، کیونکہ ایسی دو عور تیں کہ اُن میں سے جس ایک کو مرد فرض کریں، دوسری اس کے لیے حرام ہو ( مثلا دو بہنیں کہ ایک کو مرد فرض کریں تو بھائی، بہن کا رشتہ ہو یا پھوپھی، بھتیجی کہ پھوپی کو مرد فرض کریں تو چھا، بھتیجی کا رشتہ ہوا اور بھتیجی کو مرد فرض کریں تو پھو بھی بھیجے کارشتہ ہو یا خالہ بھانجی کہ خالہ کو مرد فرض کریں تو ماموں، بھانجی کارشتہ ہوا اور بھانجی کو مرد فرض کریں تو بھانجے ، خالہ کارشتہ ہوا) ایسی دوعورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں جبکہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.