Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض نماز کا انکار کرنے والے کا جنازہ پڑھنا؟
- Fatwa no.
- 3546-WAT
Question
(دعوت اسلامی) ایک شخص ہے جو اللہ ،رسول، قرآن، قیامت جنت و دوزخ سب پر ایمان رکھتا ہے ، مگر وہ کہتا ہے کہ نمازیں پانچ نہیں بلکہ تین ہیں کیونکہ قرآن پاک میں صرف تین ہی نمازوں کا ذکر ہے، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا اس کا جنازہ جائز ہے ؟
Answer (beginning)
اگر واقعی وہ شخص دو نمازوں کی فرضیت کا ہی منکر ہے تو وہ مرتد ہے اور اس کا جنازہ پڑھنا حرام ہے۔ پانچ نمازوں کی فرضیت قطعی ہے اور یہ ضروریات دین میں سے ہے قرآن و حدیث و اجماع امت سے پانچ نمازوں کی فرضیت ثابت ہے۔ لہذا انماز پنجگانہ میں سے کسی ایک نماز کی فرضیت کا منکر بھی مسلمان نہیں رہتا، خواہ وہ دیگر تمام اسلامی باتوں پر ایمان رکھتا ہو۔ بدائع الصنائع میں ہے " وأما عددها فالخمس، ثبت ذلك بالكتاب والسنة، وإجماع الأمة "ترجمہ : بہر حال نمازوں کی تعداد تو وہ پانچ ہے جو قرآن و سنت و اجماع امت سے ثابت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.