Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض خواہ کا انتقال ہونے پر قرض کے پیسوں کا حکم

Fatwa no.
3545-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے ایک لاکھ روپیہ کسی سے ادھار لیا تھا اور جس سے ادھار لیا تھاوہ بندہ فوت ہو گیا اور اس کے رشتہ داروں کو بھی یہ نہیں جانتا اور جس سے قرض لیا تھا اس کی اپنی اولاد بھی نہیں ہے ، اب زید یہ چاہتا ہے کہ اس رقم کو مسجد یا قبرستان میں لگادے یا کسی فلاحی کام میں خرچ کرے، تو کیا زید کا ایسا کرنا درست ہے ؟ یازید پر میت کے ورثا کو تلاش کر کے رقم ان کے حوالے کرنالازم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اولا تو پوری کوشش کر کے ورثا کی معلومات لی جائے، انہیں تلاش کیا جائے ، فی زمانہ کسی شخص کو تلاش کر نازیادہ مشکل نہیں، بہت سے ذرائع اپنائے جاسکتے ہیں، مثلاً: بعض اوقات انسان نے اپنے پاس حساب کتاب لکھ کر رکھا ہوتا ہے ، تو اس سے معلوم کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ کس کا کتنا قرض ادا کرنا ہے ، اسی طرح مرحوم کا عمو مالین دین کن لوگوں سے ہو تا تھا، اُن کے ذریعے معلومات لی جاسکتی ہے، الغرض حتی الامکان ورثا کو تلاش کر کے ان تک ہی پہنچایا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.