Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روشنی کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی
- Fatwa no.
- 3542-WAT
Question
(دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر کسی کی آنکھ سے درد کی وجہ سے نہیں بلکہ سورج کی روشنی اور بلب کی روشنی میں آنسو نکل آئے تو اس کے وضو کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر آنکھ میں در دیاز خم وغیرہ نہیں ہے بلکہ صرف سورج کی روشنی یا بلب کی روشنی کی وجہ سے آنسو نکل آئے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اور نہ یہ پانی ناپاک ہوگا، کیونکہ صرف بیماری کی وجہ سے آنکھ سے جو پانی نکلے ، وہ ناپاک اور ناقض وضو ہوتا ہے۔ چنانچہ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جو سائل ( بہنے والی) چیز بدن سے بوجہ علت ( بیماری ) خارج ہو ، ناقض وضو ہے (وضو کو توڑنے والی ہے) مثلا آنکھیں دکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ ، کان ، ناف، وغیر ہامیں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو، پانی ہے وضو کا ناقض ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.