Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مشترکہ مشین میں اپنا حصہ کرائے پر دینا کیسا؟

Fatwa no.
3536-WAT

Question

(دعوت اسلامی) زید اور بکر نے پارٹنر شپ پر ایک گیہوں پینے کی مشین لی اور اس کے منافع آپس میں تقسیم کرتے ہیں ، اب زید چاہتا ہے کہ وہ بکر کو مشتر کہ مشین کا اپنا حصہ کرائے پر دے دے، بکر بھی اس پہ راضی ہے، تو کیا اس کی شرعاً اجازت ہوگی؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید وہ مشترکہ مشین اپنے شریک کو کرایہ پر دے سکتا ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ جو چیز مشاع کے طور پر دو یا کئی افراد میں مشترک ہو ، اگر اس میں کوئی ایک شریک اپنا حصہ مشاعا( بغیر تقسیم کیے) کرایہ پر دینا چاہتا ہے ، تو اپنے شریک کو کرائے پر دے سکتا ہے، غیر شریک کو کرائے پر دینا جائز نہیں۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”اجارة المشاع فانما جازت عنده من الشریک دون غيره، لان المستاجر لا يتمكن من استيفاء ما اقتضاه العقد الابالمهاياة، وهذا المعنی لا یوجد فی الشریک۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.