Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ناپاک ہاتھوں سے تیل لگا سکتے ہیں؟

Fatwa no.
3535-WAT
Issued
07 شعبان المعظم 1446ھ / 06 فروری 2025 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہاتھ میں نجاست لگ کر خشک ہو گئی ہو اور ہاتھ کو پاک نہ کیا ، پھر اسی ہاتھ سے سر کے بالوں پر تیل لگایا، تواب کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

ناپاک خشک ہاتھ پر جب تیل لگے گا، تو ظاہر ہے کہ تیل کی تری سے وہ نجس ہاتھ تر ہو کر تیل کو بھی ناپاک کر دے گا، اور پھر وہ ناپاک تیل سر اور بالوں کے جس جس حصے پر لگے گا، تو سب کو ناپاک کر دے گا، لہذا اہاتھ ، سر اور بالوں کے جس جس حصے پر وہ ناپاک تیل لگے گا، ان سب کو پاک کرنا ہو گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” إذ انام الرجل على فراش فأصابه مني ويبس فعرق الرجل وابتل الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في بدنه لا يتنجس وإن كان العرق كثيرا حتى ابتل الفراش ثم أصاب بلل الفراش جسده فظهر أثره في جسده يتنجس بدنه كذافي فتاوى قاضي خان“ ترجمہ : جب آدمی بستر پر سویا، پھر اس بستر کو منی لگ گئی اور وہ خشک ہو گئی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.