Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کتا یا بلی کپڑے کو لگ جائے تو کیا کپڑا ناپاک ہوجائے گا؟

Fatwa no.
3533-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کتا یا بلی کپڑے کو چھو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

کتے اور بلی کا حکم اس اعتبار سے تو یکساں ہے کہ اگر ان کا جسم خشک ہو، اس پر کسی طرح کی کوئی نجاست نہ لگی ہو تو اس حالت میں اگر یہ کسی شخص کے بدن یا کپڑوں کو چھو جائیں تو اس کے کپڑے و بدن ناپاک نہیں ہوں گے ، لیکن ان کے جھوٹے اور تھوک و پسینے کے اعتبار سے حکم مختلف ہو گا کہ کتے کا جھوٹا، پسینہ اور تھوک ناپاک ہے، یہ اگر کسی کے بدن یا کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے کا اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا اور اگر وہ درہم سے زائد مقدار پر لگا ہو تو دھو کر نماز پڑھنا فرض اور درہم کی مقدار ہو تو دھو کر نماز پڑھنا واجب اور کم ہو تو دھونا سنت۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.