Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کانوں کا مسح سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2353-Web
- Issued
- 26 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 23 جون 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم وضو میں کانوں کا مسح سنتِ مؤکدہ ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا وضو میں کانوں کا مسح کرنا سنت مؤکدہ ہے ؟ جواب جی ہاں ! وضو میں کانوں کا مسح کرنا سنت مؤکدہ ہے ۔ چنانچہ الجوہرۃ النیرہ میں ہے : ( ومسح الاذنين) هو سنة مؤكدة یعنی دونوں کانوں کا مسح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے ۔ (الجوہرۃ النيرة، جلد 1 ، صفحہ 30، بيروت) بہار شریعت میں ہے : " پورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کا مسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے مونھ ، پھر ہاتھ دھوئیں ، پھر سر کا مسح کریں ، پھر پاؤں دھوئیں (سن وضو میں سے ہے لہذا اگر خلاف ترتیب وضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا تو وضو ہو جائے گا مگر ایک آدھ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.