Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں تسبیحات اونچی آواز سے پڑھنا
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ نماز پڑھتے وقت تسبیحات وغیرہ اتنی آواز سے پڑھتے ہیں کہ جس سے ان کے ارد گرد کے ایک دو لوگ سنتے ہیں، اتنی آواز سے تسبیحات وغیرہ پڑھنا کیسا؟ اور اگر اس سے ان لوگوں کو نماز میں تکلیف ہوتی ہو تو کیا حکم ہو گا؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
Answer (beginning)
تسبیحات وغیرہ کو اتنی آواز سے پڑھا جائے کہ شور و غل یا اونچا سننے کا عارضہ نہ ہو ، تو نمازی کے خود اپنے کان سن لیں اور اتنی آواز سے پڑھنے کی صورت میں اگر برابر والے نمازی کو بھی ہلکی ہلکی آواز پہنچے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے آہستہ ہی کہیں گے ، البتہ بعض لوگ اپنے گمان میں تو آہستہ پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کی آواز تھوڑی تیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دوسرے نمازیوں تک بھی آواز پہنچ رہی ہوتی ہے، جس سے انہیں نماز میں دشواری ہوتی ہے، ایسا کر نا کر وہ ہے لیکن اس کی وجہ سے نماز میں کوئی حرج نہیں ہو گا، لہذا ایسے لوگوں کو چاہیے کہ تھوڑی توجہ کے ساتھ کوشش کر کے اتنی آواز ہی نکالیں کہ دوسرے نمازیوں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.