Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرہ کی نیت کے بغیر احرام باندھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 3525-WAT
Question
(دعوت اسلامی) عورت نے میقات سے پہلے احرام کی نیت کر لی تھی لیکن عمرہ کی نیت نہیں کی، عمرہ کی نیت مکہ پاک میں جاکر کی ہے، تو کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
جو آفاقی یعنی میقات کی حدود کے باہر مثلا پاکستان وغیرہ سے جانے والا مرد یا عورت، مکہ پاک یا حرم کے ارادے سے چلے ، اس پر واجب ہوتا ہے کہ میقات سے پہلے پہلے حج یا عمرے کا احرام باندھ لے۔ احرام شروع ہو جانے کے لیے احرام کی نیت کے ساتھ تلبیہ کہنا یا ایساذ کر کرنا، جس میں اللہ پاک کی تعظیم ہو (مثلاً سبحن الله والحمد لله وغیرہ) ضروری ہوتا ہے۔ لہذا اگر اس عورت نے میقات سے احرام کی نیت کرتے ہوئے تلبیہ بھی کہہ لی تھی، تو اس صورت میں اُس کا احرام میقات ہی سے شروع ہو گیا اور یوں احرام ہی کی حالت میں میقات کر اس کر نا پایا گیا اور کوئی کفارہ لازم نہیں ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.