Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی ساس سے زنا کرنے سے بیوی حرام ہوجاتی ہے
- Fatwa no.
- 3510-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص نے اگر معاذ اللہ اپنی ساس کے ساتھ زنا کیا تو اب کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر معاذ اللہ کسی نے اپنی ساس کے ساتھ زنا کیا تو اس عمل کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی اور اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ، لہذا اب اس پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ سے تو بہ بھی کرے اور بیوی سے متارکہ بھی کرے مثلاً یوں کہے: میں نے تمہیں چھوڑ دیا " یا اسے طلاق دیدے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ” عن قتادة، عن الحسن ، عن عمران بن الحصين في الرجل يقع على أم امرأته؟ قال: «تحرم عليه امرأته “ ترجمہ: حضرت قتادہ، حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ حضرت عمران بن حصین سے کہ ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کی ماں یعنی ساس سے زنا کرے؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.