Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حدیث: "جادو پر یقین رکھنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔" کی وضاحت

Fatwa no.
3506-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: " شراب کا عادی، جادو پر یقین رکھنے والا اور قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ " اس حدیث پاک کی شرح بتادیں کہ اس میں "جادو پر یقین رکھنے " سے کیا مراد ہے؟

Answer (beginning)

واضح رہے کہ جادو کا وجود بر حق ہے اور اللہ تعالی نے اس میں تاثیر بھی رکھی ہے، لیکن جادو کر ناشر عاحرام ہے۔ اور مذکورہ حدیث پاک میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ : " جادو پر یقین رکھنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ " تو اس سے مراد جادو کو حلال جاننے والا یا اس کی تاثیر بذاتہ ( یعنی اس میں اللہ پاک کے دیے بغیر خود بخود تا ثیر ہونے ) کا قائل شخص مراد ہے کہ ایسا شخص کا فرو بے دین ہے کہ جادو کو حلال سمجھنا یا اس کی تاثیر بذاتہ کا قائل ہونا کفر و بے دینی ہے، لہذا ایسا شخص جنت میں بھی داخل نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.