Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضا وتر کی ادائیگی کا طریقہ
- Fatwa no.
- 3503-WAT
- Issued
- 12 رجب المرجب 1446ھ / 13 جنوری 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے ذمہ بہت ساری قضا نمازیں ہوں اور وہ ان کو تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کر رہا ہے ، تو کیا عشاء کے وتر کی تین رکعت نماز جس طرح پڑھنے کا طریقہ ہے ، ویسے ہی پڑھنے سے وتر ادا ہوں گے یا پھر تین رکعت پڑھنے کے بعد پھر ایک رکعت ملا کر چار رکعت پڑھناضروری ہے ؟ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
نماز کی قضا اسی طریقے اور اند از پر کی جاتی ہے، جس پر اسے وقت کے اندرادا کیا جاتا ہے ،لہذ اوتروں کی قضا میں بھی ادا کی طرح تین رکعتیں ہی پڑھنی ہوتی ہیں نہ کہ چار اور جس طرح ادا میں دعائے قنوت پڑھنی ہوتی ہے اسی طرح قضا میں بھی دعائے قنوت پڑھنی ہوتی ہے۔ المستدرک للحاکم میں ہے ”عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث لا يسلم إلا في آخر هن“ ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیه و آله و سلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور سلام صرف آخر میں پھیرتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.