Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کو غسل دیتے وقت ہاتھوں پرکپڑاوغیرہ لپیٹنا
- Fatwa no.
- 3501-WAT
Question
کیا میت کو غسل دیتے وقت دستانے یا ہاتھ پر کپڑا باندھناضروری ہے اور اگر کسی نے دستانے نہیں پہنے یا ہاتھ پر کپڑا نہیں پہنا تو کیا وہ مرتد ہو جائے گا۔ ؟
Answer (beginning)
میت کو غسل دینے کے لئے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹنا یا دستانے پہنناضروری نہیں ہے ،ہاں جب غسل دینے والا استنجا کروانے یا پانی بہانے کے لئے ستر عورت کو چھونے لگے ، اس وقت ہاتھ پر کپڑ وغیرہ لپیٹنالازم ہے کیونکہ ستر عورت کو جیسے دیکھنا حرام ہے ، ایسے ہی بلاحائل چھونا بھی حرام ہے، لیکن بغیر حائل کے ستر عورت کو چھولینا کفر نہیں ہے لہذا اگر بغیر دستانے پہنے یا کپڑا لیٹے استنجا کر وایا تو گنہگار تو ہو گا لیکن مرتد نہیں ہو گا۔ محیط برہانی میں ہے " ویلف الغاسل على يديه خرقة ويغسل السوءة؛ لأن مس العورة حرام كالنظر فيجعل على يده خرقة ليصير حائلاً بينه وبين العورة.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.