Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا خلع کے بعد عدت لازم ہوتی ہے؟
- Issued
- 27 رجب المرجب 1446ھ / 28 جنوری 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا خلع کے بعد عدت پوری کرنا لازم ہے ؟ اور اگر عورت خلع کے بعد عدت پوری نہ کرے تو کیا گناہ ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر خلع، شوہر نے دیا ہے تو خلع کے بعد عورت پر عدت لازم ہو گی، اگر عدت پوری نہیں کرے گی تو گنہگار ہو گی، کیونکہ خلع طلاق بائن ہی ہے ، لہذا خلع کے بعد عورت پر طلاق والی عدت لازم ہو گی، یعنی خلع لینے والی عورت اگر ان میں سے ہے جنہیں حیض آتا ہے تو اس کی عدت تین حیض ہیں، اور اگر نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے ) حیض نہیں آتا ( یا عمر کے لحاظ سے بالغہ ہوئی اور اسے ابھی تک حیض آیا ہی نہیں ) تو اس کی عدت تین مہینے ہے، اور اگر وہ عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ پیدا ہونے تک) ہے۔ چنانچہ الحاوی القدسی میں ہے ” والعدۃ فی الخلع کالعدۃ فی الطلاق“ ترجمہ : خلع میں عدت ، طلاق کی عدت کی طرح ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.