Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین طلاق کے بعد مہر کا مطالبہ کیا صرف عدت میں ہی ہوسکتا ہے؟
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی کو تین طلاق دیدے تو عورت صرف عدت تک ہی مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے یا بعد میں بھی کر سکتی ہے جبکہ مہر مطلق باندھا گیا ہے؟
Answer (beginning)
مہر کا مطالبہ عورت عدت کے اندر اور عدت کے بعد بھی کر سکتی ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے اور وہ اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے جب تک شوہر ادانہ کرے یا عورت اپنامہر معاف نہ کر دے۔ فتاوی رضویہ میں ہے " اگر عورت مدخولہ ہے دو طلاقیں ہو گئیں مگر جب تک عدت نہ گزرے رجعت کر سکتا ہے، ۔۔۔ اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو ایک طلاق بائن پڑی اور عورت نکاح سے نکل گئی ۔۔۔ رہا مہر وہ کسی حالت میں ساقط نہ ہو ابدستور باقی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.