Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طوافِ زیارت کے بعد سعی کے لیے احرام کا حکم؟
- Fatwa no.
- 3495-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر حج تمتع کرنے والا سات یا آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کر کے حج کی سعی نہیں کرتا اور حج کی قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام سے باہر آنے کے بعد طواف زیارت کے ساتھ سعی کرتا ہے ، تو کیا اس سعی کے لیے احرام ہو ناضروری ہے۔؟ اور اگر اس سعی کو احرام کے ساتھ کر ناضروری ہے ، تو کیا اس احرام کے لیے نیت اور احرام کی پابندیاں بھی ہوں گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب کسی حج تمتع کرنے والے نے حج سے پہلے سعی نہیں کی اور حج کی ادائیگی کے بعد احرام کھول کر طواف زیارت کے بعد سعی کرنی ہے، تو اب اس سعی کے لیے احرام شرط نہیں اور اس میں سنت بھی یہی ہے کہ جب سعی وقوفِ عرفہ کے بعد ہو، تو احرام کھولنے کے بعد ہو۔ لباب المناسک و مسلک المنتقسط میں ہے (وان كان) ای سعیه (للحج بعده) اى بعد الوقوف (فلا يشترط) ای وجود الاحرام“ ترجمہ : اور اگر حج کی سعی وقوفِ عرفہ کے بعد ہو ، تو احرام شرط نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.