Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ادھار بیع میں اقالہ ہوا تو خریدار پر قیمت دینا لازم ہے؟
- Fatwa no.
- 3492-WAT
- Issued
- 21 رجب المرجب 1446ھ / 22 جنوری 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ میں نے کبوتر ادھار خریدا، جس سے خرید اوہ اب کہہ رہا ہے کہ یہ کبوتر بیمار ہے مجھے واپس کر دو تا کہ میں نے جس سے لیا ہے اس کو واپس کر دوں ، میں نے اس کو کبوتر واپس کر دیا، تو کیا اب مجھے اس کے پیسے دینے پڑیں گے ؟
Answer (beginning)
جب آپ نے بیچنے والے کی رضامندی سے وہ کبوتر اسے واپس کر دیا تو یہ دونوں کے درمیان پہلے کیے گئے خرید و فروخت کے ایگریمنٹ کو ختم کرنا ہوا، اور خرید و فروخت کا ایگریمنٹ اسی قیمت پر ختم ہوتا ہے، جس پر خرید و فروخت ہوئی تھی، لہذا اب آپ پر کبوتر کے پیسے دینا لازم نہیں۔ اقالہ کی تعریف الجوھرۃ النیرۃ میں یہ بیان ہوئی: ” اقالة في اللغة هي الرفع، وفي الشرع عبارة عن رفع العقد “ ترجمہ : اقالہ کا لغوی معنی کسی چیز کو اٹھانا ہے اور شرع میں اس سے مراد عقد کو ختم کرنا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.