Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کم قیمت میں چیز خرید کر مہنگی بیچنے کا حکم

Fatwa no.
3490-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کوئی چیز کم قیمت میں خرید کر اسے زیادہ قیمت میں بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

کسی کے لیے جائز چیز کم قیمت میں خرید کر اسے آگے خریدار کی رضامندی کے ساتھ زیادہ قیمت میں بیچنا جائز ہے بشر طیکہ اس میں دھو کہ و جھوٹ وغیرہ کوئی ناجائز و ممنوع صورت نہ پائی جائے کہ اپنے مال کا ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی چیز کو باہمی رضامندی کے ساتھ جتنی میں چاہے نیچے، البتہ یہ خیال رہے کہ اگر چہ شرعا نفع کی کوئی شرح متعین نہیں، لیکن ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے انہیں مناسب ریٹ پر ہی چیز بیچے کہ جس ریٹ کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے یعنی اگر وہ کسی سے کوئی چیز خریدنے جائے تو کتنی حد تک کا نفع اس سے لیے جانے کو وہ پسند کرے گا، دوسروں سے بھی اسی حد تک…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.