Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
موت کے وقت کلمہ نہ پڑھنے والے کے ایمان کا حکم
- Fatwa no.
- 3489-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کا ایکسیڈنٹ ہو اور اچانک موت آجائے کہ اس کو کلمہ پڑھنے کا موقع ہی نہ ملے ، اگر اس حالت میں مسلمان بندہ مر جائے تو کیا یہ بھی ایمان والی موت ہے کہ اچانک موت آئی اور کلمہ ہی نہ پڑھ سکا۔
Answer (beginning)
جس مسلمان کو اچانک موت آجائے اور وہ کلمہ نہ پڑھ سکے ، چاہے ایکسیڈنٹ ہو یا ویسے ہی اچانک موت آجائے اور کلمہ نہ پڑھ سکے ، تب بھی وہ مسلمان ہی ہے ، اس کا غسل و کفن بھی ہو گا اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ چنانچہ مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: خیال رہے کہ اگر مومن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مومن تھا، لہذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اسکے منہ سے کلمہ کفر سنا جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اسکا کفن دفن نماز سب کچھ ہو گی، کیونکہ غشی کی حالت کا ارتداد معتبر نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.