Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چالیس حدیثیں حفظ کرنے کی فضیلت کا مصداق

Fatwa no.
3483-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم عام مسلمان اس حدیث کی فضیلت کیسے پاسکتے ہیں، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "میری امت میں سے جو شخص چالیس احادیث حفظ کرے گا جن سے اُمت نفع اٹھائے اللہ پاک اسے بروز قیامت فقیہ و عالم کی حالت میں اٹھائے گا۔ "کیا احادیث کو یاد کرنے اور دوسروں تک پہنچانے سے یہ فضیلت حاصل ہو سکتی ہے۔ ؟

Answer (beginning)

اس روایت میں چالیس حدیثیں حفظ کرنے سے مراد ان کو کسی بھی طرح امت تک پہنچانا ہے ، خواہ زبانی یاد کر کے پہنچائے یا بغیر زبانی یاد کیے پہنچادے، کیونکہ مقصود تو ان احادیث سے امت کو فائدہ پہنچانا ہے جیسا کہ خودروایت میں آگے الفاظ ہیں اور امت کو احادیث سے فائدہ تبھی پہنچے گا جب وہ حدیثیں ان تک پہنچیں گی، کیونکہ اگر کوئی صرف احادیث زبانی یاد کر لے لیکن امت تک نہ پہنچائے تو اس سے تو امت کو فائدہ حاصل نہیں ہو گا، اور ان تک حدیثیں پہنچانے کے لیے زبانی یاد کرناضروری نہیں، زبانی یاد کیے بغیر بھی پہنچا سکتا ہے جیسے اوپر سے دیکھ کر سنادے یا چھاپ کر تقسیم کر دے وغیرہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.