Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایمان کی قسم کھانے کا حکم

Fatwa no.
3481-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ”ایمان کی قسم کھانے کا کیا حکم ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے، اور اگر کسی نے ایمان کی قسم کھائی تو یہ قسم ہو جائے گی یا نہیں ، اور اس کا کفارہ کیا ہو گا؟

Answer (beginning)

ایمان کی قسم کھانا جائز نہیں اور اس سے قسم بھی منعقد نہیں ہو گی تو اس کا کوئی کفارہ بھی نہیں ہو گا، ہاں اگر کسی نے ایمان کی قسم کھائی تو اس پر توبہ لازم ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ پاک کے نام اور صفات کے علاوہ، کسی اور کی قسم کھانا، شر عانا جائز و گناہ ہے، اگر کھالی تو وہ قسم نہیں ہو گی اور ایمان کی قسم، اللہ پاک کے نام اور صفات کے علاوہ کی قسم ہے لہذا یہ قسم کھانا بھی جائز نہیں ہے اور اس سے قسم بھی نہیں ہوگی، جیسا کہ فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے اللہ کے دین کی قسم کھائی، تو اس سے قسم نہیں ہو گی کہ یہ اللہ پاک کے نام اور صفات کے علاوہ کی قسم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.