Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عشر کی ادائیگی اخراجات نکالنے کے بعد یا پہلے؟

Fatwa no.
3479-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ سبزیوں میں عشر دیتے وقت کیا اس میں سے سبزی کو توڑنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا خرچہ اور جو سبزی منڈی میں کمیشن وغیرہ نکالتے ہیں تو یہ سب رقم نکال کر عشر دینا ہو گا یا پھر کل رقم میں سے عشر دینا ہو گا، جیسے گاجریں ہیں، تو ان کی دھلائی ، ان سے بھرے جانے والے تھیلوں کی رقم اور کمیشن وغیر ہ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا خرچہ ، یہ سب کچھ عشر ادا کرنے سے پہلے نکالا جائے گا یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیجئے۔

Answer (beginning)

جتنی پیداوار ہوئی، اس تمام پر عشر یا نصف عشر لازم ہوتا ہے، اس سے متعلق ہونے والے اخراجات مائنس نہیں کیے جائیں گے اگر چہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔ رد المحتار میں ہے " يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك " ترجمہ: پہلی صورت میں عشر اور دوسری صورت میں نصف عشر واجب ہو گا ، اس سے کام کرنے والوں کی اجرت، بیل کا خرچہ ، نہروں کا کرایہ ، اور حفاظت کرنے والوں کی اجرت وغیرہ اخراجات مائنس نہیں کیے جائیں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.