Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر کی دوسری رکعت میں قعدہ بھول کر کھڑا ہونے کا حکم
- Fatwa no.
- 3478-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص وتر کی نماز کی دوسری رکعت میں تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا بھی ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ اگر آخر میں سجدہ سہو کر لے تو کیا نماز ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
جو شخص وتر کی دوسری رکعت میں تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا بھی ہو جائے، تو وہ واپس ہر گز نہ بیٹھے بلکہ اپنی نماز کو اسی طرح جاری رکھے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے، اس طرح اس کی نماز درست ہو جائے گی۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ” (سها عن القعود الاول من الفرض) ولو عملیا۔۔۔ان استقام قائما (لا) يعود ۔۔۔ (وسجد للسهو) ترجمہ : جو شخص فرض نماز کا قعدہ اولی بھول جائے، اگر چہ فرض عملی ہو ، تو اگر سیدھا کھڑ ا ہو جائے تو ( قعدہ اولی میں بیٹھنے کے لیے ) واپس نہیں لوٹے گا (بلکہ ) آخر میں سجدہ سہو کرے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.