Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وارث کے پاس میت کی رقم امانت ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 3477-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے والد نے اپنی بیٹی کے پاس کچھ رقم رکھوائی، اور پھر کچھ دنوں کے بعد ہی والد صاحب کا انتقال ہو گیا، تو کیا اب وہ رقم بیٹی استعمال کر سکتی ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
مذکورہ رقم بیٹی کے پاس والد صاحب کی امانت تھی، اور والد صاحب کے انتقال کے بعد یہ رقم تر کہ ( میراث ) بن گئی ہے لہذ اوالد صاحب کے چھوڑے ہوئے دوسرے مال کی طرح اس مال کے ساتھ بھی ترکے کے متعلق بیان کیے گئے شرعی اصولوں کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔ اور ترکے کا اصول یہ ہے کہ میت کی تکفین و تدفین اور اس پر جو دین تھا اس کی ادائیگی کے بعد ، اگر میت نے کوئی جائز وصیت کر رکھی تھی تو اس بچ جانے والے مال کی ایک تہائی سے وہ وصیت پوری کرنے کے بعد جو مال بچے وہ وارثوں میں وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔ در مختار و تنویر الابصار میں ہے " ( يبدأ من ترکۃ المیت)۔۔۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.