Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرتد ہونے سے پہلے والی ادا اور قضا نمازوں کا حکم
- Fatwa no.
- 3476-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہو جائے تو اس شخص کی زمانہ ارتداد کی نمازوں کی قضاء نہیں لیکن وہ شخص دوبارہ اسلام قبول کرلے تو کیا سابقہ زمانہ اسلام کی ادا کی ہوئی نمازوں کو دوبارہ پڑھنا لازم ہے ؟ یا صرف زمانہ اسلام کی قضا نمازوں کی قضا کرے گا؟
Answer (beginning)
مرتد ہوتے ہی مرتد کے پچھلے تمام نیک اعمال بشمول نماز، روزہ، حج وغیر ہ ضائع ہو جاتے ہیں، اس پر لازم ہوتا ہے کہ توبہ و تجدید ایمان کرے، اور دوبارہ اسلام لانے کے بعد عبادات کے معاملے میں اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ : (1) زمانہ ارتداد میں رہ جانے والی نمازوں وغیرہ عبادات کی قضا نہیں ہے۔ (2) مرتد ہونے سے پہلے ، زمانہ اسلام میں جو عبادات جیسے نمازیں، روزے وغیرہ ادا کیے تھے ، ان کی بھی قضاء نہیں۔ البتہ !اگر اس نے مرتد ہونے سے پہلے، زمانہ اسلام میں فرض حج ادا کر لیا تھا تو دوبارہ مسلمان ہونے کی صورت میں اگر حج کی شرائط پائی جائیں تو اس پر نئے سرے سے حج کرنا فرض ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.