Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدینہ میں نیکی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن گناہ میں نہیں

Fatwa no.
3475-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس طرح حرم شریف میں ایک نیکی کرنے پر ایک لاکھ نیکی کرنے کا ثواب ملتا ہے اور ایک گناہ کرنے پر ایک لاکھ گناہ کرنے کا عذاب ملتا ہے۔ اسی طرح مدینہ شریف میں ایک نیکی کرنے پر 50 ہزار نیکی کرنے کا ثواب ملتا ہے، تومیرا سوال یہ تھا کہ کیا مدینہ شریف میں ایک گناہ کرنے پر 50 ہزار گناہ کا عذاب بھی ملتا ہے؟ برائے کرم اس کی کوئی روایت ہو تو بیان کر دیں۔

Answer (beginning)

مدینہ طیبہ میں ایک نیکی، پچاس ہزار نیکیوں کے برابر ہے لیکن وہاں اگر کوئی شخص گناہ کرے تو اسے ایک ہی گناہ ملے گا، وہاں گناہ میں اضافہ نہیں ہے۔ امام ابنِ بتمام علیہ الرحمۃ (وِصال: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں: ”وعلى هذا فيجب كون الجوار في المدينة المشرفة كذلك، فإن تضاعف السيئات أو تعاظمها وإن فقد فيها فمخافة السآمة وقلة الأدب المفضي إلى الإخلال بواجب التوقير والإجلال قائم.وهو أيضا مانع“ ترجمہ : اس ساری گفتگو کی بنیاد پر مدینہ مشرفہ میں مستقل سکونت کا حکم بھی یہی ہے ، اگر چہ مدینہ طیبہ میں گناہوں کا کئی گنا ہونا مفقود ہے، لیکن پھر بھی وہاں مسلسل رہائش رکھ کر اکتاہٹ اور ادب میں کمی آنے کا خوف موجود ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.