Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بیٹیوں کی شادی کے پیسوں پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- Fatwa no.
- 3473-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال یہ ہے کہ میرے والد اپنی بیٹیوں کی شادی کے لئے پیسہ جمع کر رہے ہیں ، تو ان پیسوں کی زکوۃ بنے گی یا نہیں؟
Answer (beginning)
شرائط پائے جانے کی صورت میں بیٹی یا بیٹے کی شادی کے لئے جمع کئے گئے پیسے پر بھی زکوۃ فرض ہو گی۔ یعنی اگر وہ ر قم قرض اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو کر خود یا دوسرے مال زکاۃ سے مل کر نصاب کے برابر پہنچے تو نصاب کا سال پورا ہونے پر اس کی زکوۃ ادا کرنا واجب ہو گا۔ اگر پہلے سے اس کی جنس کے نصاب کا سال چل رہا ہے تو جب اس کی جنس کا سال پوراہو گا تو اس کا سال بھی مکمل ہو نا شمار ہو گا اور اگر پہلے سے اس کی جنس کا نصاب نہیں چل رہا تو پھر جب سے اس کا نصاب ہوا اس کے بعد سے جب سال مکمل ہو گا تو اس کا سال پورا ہو نا شمار ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.