Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مخصوص مدت کے لیے کسی عورت سے نکاح کرنا
- Fatwa no.
- 3472-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا چند ماہ کی شرط پر کسی عورت سے نکاح کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
اگر ایجاب و قبول میں کوئی مدت شرط کر دی خواہ مدت مجہول ہو یا معلوم اور خواہ مدت تھوڑی ہو یازیادہ ( مثلاً یوں کہا کہ : جب تک میں تمہارے پاس ہوں اس وقت تک نکاح کیا یا ایک ماہ یا ایک سال یا سو سال کے لیے تم سے نکاح کیا ) بہر صورت اس صورت میں نکاح نہ ہو گا بلکہ یہ صورت متعہ ہے اور متعہ محض حرام اور زنا۔ در مختار میں ہے " (وبطل نكاح متعة، ومؤقت)، وإن جهلت المدة أو طالت في الأصح "ترجمہ: متعہ کے طور پر نکاح باطل ہے اور مقررہ مدت کے لئے کیا گیا نکاح باطل ہے، خواہ مدت مجہول ہو یا مدت لمبی ہو ، اصح قول کے مطابق۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.