Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ولیمہ کے لئے ہمبستری ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
3469-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ولیمے کیلئے خلوت صحیحہ کا ہوناضروری ہے یا معاملات کا ہوناکافی ہے ؟

Answer (beginning)

ولیمہ ہونے کے لیے میاں بیوی والے معاملات یعنی ہمبستری ہو نا ضروری ہے، لہذا اگر رخصتی ہوئی لیکن ہمبستری نہ ہوئی ہو اور اگلے دن دعوت کر لی جائے تو اس دعوت سے ولیمہ کی سنت مستحبہ ادا نہیں ہو گی۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے: " وليمة العرس تكون بعد الدخول "ترجمہ : شادی کا ولیمہ ہمبستری کے بعد ہوتا ہے۔ (حاشیة الطحطاوي على الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، ج 11، ص 70، دار الكتب العلمية، بيروت) فتاوی ہندیہ میں ہے "ووليمة العرس سنة وفيها مثوبة عظيمة وهي اذا ابنى الرجل بامرء ته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاماً " ترجمہ : شادی کا ولیمہ کرنا سنت ہے اور اس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.