Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق رجعی کے بعد رجوع کا طریقہ

Fatwa no.
3467-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طلاق کے بعد رجوع کے لیے زبان سے بولنا کافی ہے ؟ یا ازدواجی تعلق قائم کر ناضروری ہے ؟

Answer (beginning)

اگر شوہر نے بیوی کو رجعی طلاق دی ہو اور تین طلاقیں بھی مکمل نہ ہوئی ہوں، تو ایسی طلاق کی عدت میں (یعنی عورت حاملہ نہ ہو اور حیض آتے ہوں تو طلاق کے بعد تین مکمل ماہواریاں گزرنے سے پہلے اور حاملہ ہو تو بچہ پیدا ہونے سے پہلے شوہر اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے اور اگر رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ عدت گزر گئی، تو بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔ دوران عدت رجوع کے لیے زبان سے الفاظ رجوع بول دینا کافی ہے ، مثلا یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا یا اسے اپنے نکاح میں واپس لیا وغیرہ اور اس پر دو عادل مردوں کو گواہ بھی کرلے اور بیوی کو اس کی خبر بھی دے دے تا کہ وہ عدت گزرنے کے بعد کسی اور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.