Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹیوں کو وراثت کی ہر ہر چیز سے حصہ ملے گا

Fatwa no.
3463-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ بیٹیوں کو وراثت میں سے ہر ہر چیز سے حصہ ملے گا یا صرف زمین میں سے ؟ جواب عنایت فرمائیں۔

Answer (beginning)

وراثت میں جو بھی مال میت نے چھوڑا، چاہے وہ زمین و جائیداد ہو یار تم یا سونا، چاندی ، الغرض کسی بھی قسم کا مال ہو ، جو ضروری معاملات ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے کرنے ہوتے ہیں (کفن، دفن ، دین، وصیت ) ان کی ادائیگی کے جو کچھ مال باقی بچے ، وہ سب کا سب ورثہ میں تقسیم ہو گا، اور بیٹیاں بھی ورثہ میں شامل ہیں، لہذا ان کو بھی دوسرے وارثوں کی طرح اس مال کی ہر ہر چیز میں سے حصہ ملے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.