Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہر کی ادائیگی سے پہلے بیوی کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حکم
- Fatwa no.
- 3460-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر شوہر نے مہر ادا نہیں کیا اور بیوی کا انتقال ہو گیا، تو اب شوہر مہر کی ادائیگی کیسے کرے گا؟
Answer (beginning)
شوہر نے اگر بیوی کا حق مہر ادا نہیں کیا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا، اس سے پہلے ہی بیوی کا انتقال ہو گیا، تو وہ بیوی کا ترکہ بن گیا، اب اگر وہ قابل تقسیم ہو ( یعنی عورت پر کوئی ایسا دین نہ ہو جو اس کے تمام تر کے (نقدی، دین، جائداد) کو گھیرے ہوئے ہو) تو اسے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، اور چونکہ بیوی کے ورثاء میں شوہر بھی ہے ، تو شوہر اس میں سے اپنا حصہ رکھ لے اور بقیہ حصہ دیگر ورثاء کے حوالے کر دے ، ان ورثاء میں جو معاف کرنے کا اہل ہو ( عاقل بالغ صحیح ہو ) تو وہ اپنی مرضی سے اپنا حصہ معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.