Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نکاح نامے میں بیوی کوحج کروانے کی شرط لکھنا
- Fatwa no.
- 3457-WAT
Question
(دعوت اسلامی) نکاح کے وقت یہ لکھنا کہ میں ہونے والی بیوی کو حج کرواؤں گا، کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
اگر حق مہر کے طور پر یہ بات لکھوائی جائے کہ شوہر بیوی کو حق مہر میں حج کروائے گا اور اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز کو حق مہر نہ رکھا جائے کہ جو حق مہر بن سکتی ہو تو یہ درست نہیں کیونکہ حج کروانا حق مہر نہیں بن سکتا، لہذا اگر صرف اسی کو حق مہر کے طور پر لکھوایا گیا تو ایسی صورت میں مہر مثل واجب ہو گا ( یعنی عورت کے خاندان میں اس جیسی عورت کا جو مہر ہو وہی اس کا قرار پائے گا)۔ اور اگر حق مہر علیحدہ سے اس چیز کا مقرر کیا گیا کہ جو شر عاحق مہر بن سکتی ہے ، اور پھر ساتھ میں علیحدہ سے یہ بات لکھوائی گئی کہ شوہر، بیوی کو حج کروائے گا تو اس میں حرج نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.