Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسروں کے لئے دعا کرنے کاحکم

Fatwa no.
3454-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی تھی جس میں ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ صرف اپنے لئے دعامانگو، دوسروں کے لئے نہیں، کیا یہ بات درست ہے ؟

Answer (beginning)

یہ بات محض غلط و باطل ہے کہ "دعا صرف اپنے لیے مانگو دوسروں کے لیے صحیح نہیں ہے "۔ قرآن و حدیث میں ایسی کثیر دعاؤں کی تعلیم فرمائی گئی ہے جن میں اپنے ساتھ ساتھ دیگر مسلمانوں کے لیے بھی دعائیہ کلمات ہیں۔ خود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دفعہ اپنے لیے دوسروں سے دعا کرنے کا ارشاد فرمایا۔ مشہور ترین قرآنی دعا جسے عموما ہم اپنی ہر نماز میں کرتے ہیں، وہ یہ ہے : (رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ) ترجمہ : کنز العرفان: اے میرے رب ! مجھے اور کچھ میری اولاد کو نماز قائم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.