Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ذروہ بتول نام کا مطلب اور ذروہ بتول نام رکھنا کیسا

Fatwa no.
3452-WAT

Question

ذر وہ بتول نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

ذروہ (ذال کی زیر یا پیش کے ساتھ ) بلندی کے معنی میں آتا ہے اور بتول کے معنی ہیں: " منقطع ہونا، کٹ جانا اور یہ لفظ خاتونِ جنت حضرت سید تنافاطمہ رضی اللہ عنھا کا لقب ہے۔ سیدتنافاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ تھیں، اس لیے بتول لقب ہوا۔ لہذ اذر وہ بتول نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.