Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فروہ نام کا مطلب اور فروہ نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
3443-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ہم لڑکی کا نام "فروہ " رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

"فروہ " کا معنی ہے: تاج، مالداری وغیرہ، لہذا فروہ نام رکھ سکتے ہیں۔ مصباح اللغات میں ہے: " الفَرْوَةُ : عورت کا سر بند، تاج، مالداری۔ " (مصباح اللغات صفحه 631، ط: دارالاشاعت) البتہ !حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، اور اس سے امید ہے کہ اچھوں کی برکت بچی کے شامل حال رہے گی۔ لہذا " فروہ " کے بجائے "ام فروہ نام رکھنا بہتر ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ کا نام "اُم فروہ " ہے اور یہ صحابیہ ہیں، رضی اللہ تعالی عنھا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.