Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
افنان نام کا مطلب اورافنان نام رکھنا کیسا
- Fatwa no.
- 3442-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بچے کا نام " افنان "رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
افتان کا معنی ہے: "شاخیں، ٹہنیاں، حال وغیرہ " قرآن پاک میں ہے " ذَوَاتَا أَفنَانِ "ترجمہ : شاخوں والی ہیں۔ (سورہ رحمن، پ 27، آیت:48) تاج العروس میں ہے " (أفنان) جمع فَنَنِ محركة هُوَ الْغُصْن "ترجمہ : افغان فنن کی جمع ہے اس کا معنی ہے ٹہنی۔ (تاج العروس، ج 01، ص62، دارالهداية بيروت) المنجد میں ہے " الفن : قسم۔ حال ج افنان وفنون"(المنجد، ص 657 اردو بازار، لاہور) معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا اگر چہ جائز ہے، بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام صرف محمد رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اس کی فضیلت و ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.