Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نیک کام کیلئے جمع کی گئی رقم پر بھی زکوٰۃ فرض ہے؟

Fatwa no.
3441-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم نے کسی نیک و جائز کام کے لیے رقم جوڑ کر رکھی ہوئی ہو، تو کیا اس رقم کی زکوۃ ہم پر لازم ہوگی ؟

Answer (beginning)

اگر قرض اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو کر وہ جمع شدہ رقم تنہایا دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر پہنچے ، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں اس پر بھی زکوۃ فرض ہو گی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” تجب الزكاة عند تمام الحول الاول كذافي فتح القدیر و هکذافی الکافی وكل دين لا مطالب له من جهة العباد كديون الله تعالى من النذور والكفارات وصدقة الفطر ووجوب الحج لا يمنع “ ترجمہ : زکوۃ سال پورا گزرنے پر واجب ہو جاتی ہے ، فتح القدیر اور کافی میں یو نہی لکھا : ہے اور ہر وہ دین جس کا مطالبہ لوگوں کی طرف سے نہ ہو ، جیسے اللہ عزوجل کے دین مثلاً نذور ، کفارے، صدقہ فطر ، حج کا لازم ہونا یہ تمام چیزیں زکوۃ کے لیے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.