Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قعدہ اولیٰ میں تاخیر پر امام کو لقمہ دینا کیسا؟

Fatwa no.
3438-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام قعدہ اولی کو قعدہ اخیرہ سمجھ کر تاخیر کرے، تو مقتدی کب لقمہ دیں؟ اور اگر امام اس صورت میں سلام پھیر دے، تو مقتدی کیا کریں؟

Answer (beginning)

قعدہ اولی میں امام کے محض زیادہ دیر لگانے سے مقتدی کو لقمہ دینے کی اجازت نہیں ہوتی ، لہذا اگر ایسی صورت میں مقتدی لقمہ دے گا، تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی اور اگر امام اس کا لقمہ لے گا، تو امام کی بھی نماز ٹوٹ جائے گی اور اس کی وجہ سے سارے مقتدیوں کی نماز ٹوٹ جائے گی، ہاں! اگر امام سلام پھیر نے لگے ، تو اس وقت لقمہ دے،اس صورت میں امام لقمہ لے کر کھڑا ہو جائے گا اور بقیہ نماز پوری کر کے آخر میں سجدہ سہو کرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.