Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا لیٹ کر اذان کا جواب دے سکتے ہیں؟

Fatwa no.
3436-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اذان کے وقت مردے اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں ؟ اگر کوئی شخص لیٹا ہو اہو اور اذان ہو جائے تو کیا ہمیں بیٹھنا ضروری ہے یا لیٹ کر بھی اذان کا جواب دے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اذان کے وقت مردوں کا بیٹھنا یہ محض عوام میں ایک مشہور بات ہے، ایسی کوئی بات کسی مستند کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔ نیز اگر کوئی شخص لیٹا ہو اہو اور اذان ہو جائے تو اذان سننے کیلئے یا اذان کا جواب دینے کیلئے اٹھ کر بیٹھ جانا کوئی ضروری نہیں، بلکہ لیٹے لیٹے بھی اذان سنی جاسکتی ہے اور اُس کا جواب دیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی گناہ والی بات نہیں ہے ، ہاں البتہ ! جواب دیتے وقت اذان کی تعظیم میں پاؤں سمیٹ لئے جائیں ، بلکہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو بیٹھ کر اذان سننا اور اس کا جواب دینا بہت بہتر اور ادب میں زیادہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.